Featured Posts
Recent Posts
Search By Tags

بلوچستان الیکشن ڈائری:۔جان محمد دشتی کی واپسی

تحریر: ملک سراج اکبر

اس بات سے قطعِ نظرکہ اگلے مہینے منعقد ہونے والے عام انتخابات میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے امیدوار جان محمد دشتی قومی اسمبلی کی نشست کے مقابلے میں سابق وفاقی وزیرزبیدہ جلال کے مقابلے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، ان کی بذات خود انتخابات میں حصہ لینا ایک غیر معمولی اور تاریخ ساز امر ہے۔ دشتی صاحب غالباًبلوچستان کی جدید تاریخ میں انتخابات میں حصہ لینے والے سب سے تعلیم یافتہ اور تجربہ کار شخص ہیں ۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ وہ بلوچستان کے ایک کہنہ مشق سابق بیورو کریٹ ہیں جن پر چند سال قبل کوئٹہ میں اس وقت قاتلانہ حملہ ہوا جب وہ صوبائی سیکرٹری برائے مائنز اینڈ منرلز کام کررہے تھے۔ وہ اعلیٰ پایہ کے دانشور اور محقق ہیں جنھوں نے بلوچی اور انگریزی زبانوں میں کئی مستند کتابیں لکھی ہیں اور معتبر علمی و ادبی ادارہ بلوچی اکیڈمی کے چئیرمین بھی رہ چکےہیں۔ انھوں نے جامعہ کراچی سے صحافت کے شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا۔ان کی زیر ادارت شائع ہونے والے روزنامہ “آساپ” نے بلوچستان کے قلم کاروں اور صحافیوں کی ایک نئی نسل کی تربیت کی۔

باقی ملک کی طرح بلوچستان میں بھی عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیاست ایک گندا شعبہ ہے اور شریف اور پڑھے لکھے لوگ جتنا زیادہ اس شعبے سے

دور رئیں گے اتنا ہی ان کے لئے بہتر ہے۔ بلوچستان میں سیاست پر زیادہ تر ان لوگوں کی اجارہ داری قائم ہے جن کی کئی نسلیں سیاست اور حکومت کا حصہ رہی ہیں جن کے لئے اپنی سیاسی بقا کو برقرار رکھنے کے لئے سرمایہ اور تعلقات دستیاب ہیں۔ بلوچستان میں پڑھے لکھے نوجوان زیادہ اپنی تعلیم پورا کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں بیوروکریسی کا رخ کرتے ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان سیاست میں نہیں آتے کیونکہ ان کے پاس وہ مالی اور سماجی سر مایا نہیں ہوتا جو کہ سیاست کے میدان میں کامیاب ہونے کے لئے لازمی ہوتا ہے۔دشتی صاحب نے سیاست میں داخل ہوکر ایک نئی روایت کی بنیاد ڈالی ہے کہ حکومت پر محض تنقید کرنے سے بہتر ہے کہ اس کا حصہ بن کر اس کی اصلاح کی جائے۔ جب تک پڑھے لکھے لوگ انتخابی عمل اور حکومت کا حصہ نہیں بنتے تب تک وہ حکومتی سطح پر کسی بھی طرح کی سیاسی اور سماجی تبدیلی نہیں لاسکتے۔

دشتی صاحب کئی پڑھے لکھے بلوچ نوجوانوں کے لئے بطور صحافی، دانشوراور بیوروکریٹ ایک نمونہ (رول ماڈل ) ہیں اور ان کی طرف سے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے سے اس مکتبہ فکر کو بڑا دھچکہ لگے گا جس کی ’’آساپ‘‘ کے ذریعے وہ کئ سالوں تک تربیت کرتے آرہے ہیں جنھیں یہ بتایا گیا تھا کہ پاکستانی پارلیمنٹ بلوچوں کے دکھ درد کا مداوا نہیں۔لیکن آج دشتی صاحب کی طرف سے یہ کہنا کہ بلوچوں نے ماضی میں انتخابات کا بائیکاٹ کرکے بڑی غلطی کی دراصل نیشنل پارٹی اور دیگر وفاق پرست جماعتوں کے موقف کی تائید کرتا ہے جن کا کئی سالوں سے یہ کہنا رہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل مسلح جدوجہد اور پارلیمان کے بائیکاٹ میں نہیں بلکہ پاکستانی نظام کا حصہ بنے میں ہے۔دشتی صاحب جیسے بڑے دانشور کا پاکستانی انتخابی اور پارلیمانی نظام کے حق میں اتنے اچھے کلمات کہنے سے یقیناً ان قوم پرست سیاستدانوں اور دانشوروں کی حوصلہ شکنی ہوگی جو بلوچ کے مسائل کا حل کئی اور ڈھونڈ رہے تھے۔

اگرچہ دشتی صاحب کی بلوچستان نیشنل پارٹی سے قربت کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اگر وہ چاہتے ہیں کہ سیاست میں قدم رکھ کر بلوچستان کے

نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انھیں سیاسی عمل کا حصہ بننے پر راضی کریں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان جیسا پڑھا لکھا شخص کیونکر ایک ایسی سیاسی جماعت کا حصہ بنے ہیں جس کی سربراہی ایک سردار کررہے ہیں اور اس جماعت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرداروں اور نوابزادوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایک عرصہ تک مکران کے لوگ بڑے فخر سے کہتے تھے کہ ان کا تعلق بلوچستان کے اس حصے سے ہے جہاں کوئی سردار اور نواب نہیں ہے اور ہر شخص محنت کرکے اپنے پاوں پر خود کھڑا ہوسکتا ہے اور اس کی زندہ جاوید مثال جان محمد دشتی جیسے لوگ تھے جنھوں نے ذاتی طور پر محنت کرکے معاشرے میں اپنا مقام بنایا لیکن ایک موقع پر پہنچ کر مکران اور حتیٰ کہ پڑھے لکھے طبقے میں سردار اور نوابوں کی پرستش شروع ہوئی۔ اس رویے سے مڈل کلاس سیاست کو نقصان اور سرداری نظام کو تقویت ملے گی۔

دشتی صاحب انتخابات کا حصہ ضرور بن رہے ہیں لیکن وہ مکران میں جمہوریت کے فروغ میں شامل نہیں ہیں کیونکہ جمہوری نظام میں سب شہری برابر ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں بد قسمتی سے اب بھی ایسی جماعتیں ہیں جن کی سرپرستی سردار اور نواب کررہے ہیں۔ اگر مکران میں ایک بڑے دانشور نے سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے تو وہ یہ بطور آزاد امیدوار بھی کرسکتے تھے بجائے کہ مکران میں سردار پرست سیاست کو ایک نئی زندگی دیں۔ بلوچستان کی ترقی کے لئے لازمی ہے کہ بلوچستان کاہر شہری بااختیار ہو بدقستمی سے بی این پی نے صوبے میں سرداری نظام کے خاتمے میں کوئی کردار ادا کرنے کے بجائے اسے جمہوریت کا لبادہ پہنایا ہے۔

Follow Us
  • Facebook Classic
  • Twitter Classic
  • Google Classic

© 2023 by Samanta Jonse. Proudly created with Wix.com